ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار اسپتال سے ایک اورکورونا مریض ڈسچارج؛ جملہ پانچ مریض شام تک بھٹکل پہنچنے کی توقع؛ کیا پھر کسی کی رپورٹ مشکوک ہے ؟

کاروار اسپتال سے ایک اورکورونا مریض ڈسچارج؛ جملہ پانچ مریض شام تک بھٹکل پہنچنے کی توقع؛ کیا پھر کسی کی رپورٹ مشکوک ہے ؟

Tue, 14 Apr 2020 13:49:41    S.O. News Service

بھٹکل 14/اپریل (ایس او نیوز)  کاروار کے نیوی پتنجلی اسپتال میں ایڈمٹ ایک اور کورونا مریض کو آج منگل کو ڈسچارج کیا گیا ہے اس کے ساتھ ہی آج کاروار سے ڈسچارج ہونے والوں کی تعداد  پانچ ہوگئی ہے۔ مگر اتنی راحت کی خبر موصول ہونے کے باوجود سوال باقی ہے کہ کیا  بھٹکل میں کورونا وبا پر قابو پالیا گیا ہے یا پھر بھٹکل ابھی بھی کورونا کا ہاٹ اسپاٹ بنا ہوا ہے ؟ 

خیال رہے کہ کل پیر شام کو اُترکنڑا کےڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے کاروار پتنجلی اسپتال سے چار کورونا مریضوں کے مکمل صحتیاب ہونے کی خبر دی تھی اور بتایا تھا کہ چاروں کو آج منگل کو اسپتال سے ڈسچارج کیا جائے گا، مگر آج صبح انہوں نے بتایاکہ ایک اور مریض جو مکمل صحتیاب ہوچکا ہے، اُس  کی دوسری اور تیسری رپورٹ بھی نیگیٹو   آئی ہے اس بنا پر اُسے بھی آج ہی ڈسچارج کیا جائے گا۔

بھٹکل کا پانچواں کورونا مریض ڈسچارج:  پانچوں مریض آج شام تک بھٹکل پہنچنے کی توقع ہے، جنہیں بھٹکل میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے منظور شدہ  کورنٹائن سینٹر میں  مزید 14 دنوں تک رکھا جائے گا۔ اس تعلق سے بتایا گیا ہے کہ بھٹکل میں  قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کی  زیرنگرانی  یہاں ایک پرائیویٹ ہوٹل میں    مریضوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جارہی ہے۔مینگلور سے ڈسچارج ہونے والا نوجوان اور چند روز قبل کاروار سے ڈسچارج ہونے والے دو لوگ بھی اسی  سینٹر  میں کورنٹائن میں ہیں، اب آج ڈسچارج ہونے والے پانچ لوگوں کو بھی اسی سینٹر میں کورنٹائن میں رکھا جائے گا جس میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔

آج بھٹکل  کے جس پانچویں مریض کو  کاروار اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا ہے، وہ دبئی سے  19 مارچ کو اپنے بھائی کے ساتھ دبئی سے گوا ائرپورٹ ہوتے ہوئے بھٹکل پہنچا تھا۔ 22 سالہ یہ نوجوان (مریض نمبر 62) صرف 15/20 دن ہی دبئی میں تھاجو اس کے لئے  مہنگا ثابت ہوا تھا۔ اس نوجوان کی رپورٹ کورونا پوزیٹیو آنے کے  دو روز بعد ہی اس کے بڑے بھائی کی رپورٹ بھی پوزیٹو آگئی تھی، جو فی الحال کاروار پتنجلی اسپتال میں ایڈمٹ ہے اور توقع ہے کہ وہ بھی اگلے دو تین دن کے اندر ڈسچارج ہوجائے گا۔ یاد رہے کہ بھائی کی رپورٹ پوزیٹو آنے کے بعد ان کی ماں اور چھوٹے بھائی کو سرکاری اسپتال میں ڈاکٹروں کی نگرانی میں رکھا گیا تھا جن کی رپورٹ نیگیٹو آئی تھی۔ پتہ چلا ہے کہ تین روز پہلے اُن کے بھی سیمپل  پھر ایک بار جانچ کے لئے روانہ کئے گئے تھے اور دوسری مرتبہ پھر اُن کی رپورٹ نیگیٹو ہی نکلی ہے، جس کی بنیاد پر  آج انہیں بھٹکل تعلقہ اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا ہے۔

کیا پھر کسی کی رپورٹ مشکوک ہے  ؟:   واضح رہے کہ دو روز قبل 27 لوگوں کے تھوک کے نمونے جانچ کے لئے بنگلور روانہ کئے گئے تھے، ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اُن میں سے   26 لوگوں کی رپورٹ نیگیٹو آئی ہے۔ البتہ ایک رپورٹ ابھی ظاہر نہیں کی گئی ہے جس کے تعلق سے شبہ ہے کہ ایک رپورٹ پوزیٹو آئی ہوگی۔ مگر چونکہ کسی کی رپورٹ پہلی بار پوزیٹو آتی ہے تو اُس کے سیمپل دوسری مرتبہ  دوسری لیباریٹری میں   جانچ کے لئے روانہ کئے جاتے ہیں اور دوسری مرتبہ بھی رپورٹ پوزیٹو آتی ہے تو پھر اُسے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ بھٹکل میں کورونا کے مریضوں کی تعداد جو نو تک پہنچ چکی ہے، اُس میں مزید اضافہ ہوتا ہے یا پھر بھٹکل کے عوام کو راحت کی خبر ملتی ہے۔

مزید تھوک کے سیمپل جانچ کے لئے روانہ:  کل پیر کو تین لوگوں اور آج منگل صبح  ایک مشتبہ کورونا شخص کے تھوک کے سیمپل جانچ کے لئے بنگلور کے لئے روانہ کئے گئے ہیں، توقع ہے کہ اگلے دو دن بعد  ان کی رپورٹ موصول ہوگی۔

بھٹکل کے دو کورونا مریض بھی روبہ صحت: خیال رہے کہ اب کاروار پتنجلی اسپتال میں ایک 26 سالہ نوجوان کا علاج چل رہا ہے جبکہ ایک حاملہ خاتون جس کی رپورٹ بھی کورونا پوزیٹو آئی تھی، اُڈپی اسپتال میں زیر علاج ہے۔ کاروار اسپتال میں ایڈمٹ نوجوان کے تعلق سے ذرائع نے خبر دی ہے کہ دوسری مرتبہ اُس کے سیمپل جانچ کے لئے روانہ کئے گئے ہیں، اور چونکہ نوجوان روبہء صحت ہے اس لئے توقع کی جارہی ہے کہ اگلے دو تین دن بعد اُس کو بھی اسپتال سے ڈسچارج کیا جاسکتا ہے۔ اُدھر اُڈپی اسپتال میں ایڈمٹ حاملہ خاتون کے تعلق سے بھی ڈپٹی کمشنر نے خبر دی ہے کہ وہ بھی روبہء صحت ہے  اور فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔


Share: